کنداپوریکم اپریل (ایس ا و نیوز) یہاں سے قریب بسرور نامی گاؤں کے رہنے والے اور فی الحال جرمنی کے میونخ شہر میں رہائش پزیر جوڑے پر جرمنی میں ایک افریقی مہاجر شخص نے چاقو سے قاتلانہ حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پرشانت نامی شخص ہلاک ہوگیا جبکہ اس کی بیوی کو سنگین زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کیاگیا ۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق پرشانت کا گھر کنداپور سے قریب بسرور میں ہے جس میں پرشانت کی والدہ رہائش پزیر ہے۔
پرشانت(۵۱سال) اپنی بیوی سمیتا بسرور(۴۰سال) اور دو بچوں ساکشی (۱۵سال) اور شلوک (۱۰سال)کے ساتھ کئی برسوں سے جرمنی میں مقیم تھا۔گزشتہ سال ہی انہیں جرمنی کی شہریت مل گئی تھی۔ اس کی بیوی اور وہ دونوں ایک ہی کمپنی میں ملازمت کررہے تھے۔ جمعہ کے دن میاں بیوی اپنے اپارٹمنٹ کی سیڑھیوں سے اتررہے تھے تو ان کے ایک افریقی ملک گینی سے تعلق رکھنے والے مہاجر پڑوسی کے ساتھ کچھ کہا سنی ہوگئی۔ غصے کی حالت میں۳۳ سال کے افریقی شخص نے اس جوڑے پرباورچی خانے میں استعمال ہونے والے چاقوسے پے درپے وار کردئے جس سے دونوں زمین پر گر پڑے ۔ پڑوسیوں نے چیخ وپکار سن کر پولیس کو اطلاع دی۔
پرشانت کے جسم سے خون کے فوارے نکل رہے تھے۔ دونوں زخمیوں کو آکسبرگ یونیورسٹی اسپتال میں منتقل کیاگیاجہاں کچھ ہی دیر بعد پرشانت نے دم توڑ دیا۔پرشانت کی بیوی سمیتا کی حالت نہایت سنگین بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کے علاج میں تین چار مہینے لگ سکتے ہیں۔
پولیس جب جائے واردات پر پہنچی تو قاتلانہ حملے کا ملزم وہیں پر موجود تھااور اس نے بغیر کسی رکاوٹ کے خود کو پولیس کے سپرد کردیا۔ جرمن میڈیا میں اس قاتلانہ حملے کی خبر کو بہت زیادہ کوریج دیا گیا ہے۔مگر اس حملے کی اصل وجوہات پر ابھی راز کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔پرشانت کی والدہ ، بھائی پربھات ،سمیتا کے والدین اس کے بھائی ،بھابی وغیرہ بنگلورو پہنچ گئے ہیں اور سرکاری کاغذات تیار ہوتے ہی وہ لوگ جرمنی کے لئے روانہ ہونے والے ہیں۔ اُدھر جرمنی میں پرشانت کی چودہ سالہ دُختر اور سات سالہ لڑکے کو سرکاری حفاظت میں لیا گیا ہے ۔